السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما يجب على المرء من القيام بشهادته إذا شهد باب: انسان جب گواہ بن جائے تو اس پر اپنی گواہی کو قائم کرنا کس قدر واجب ہے اس کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ كُدَيْرًا الضَّبِّيَّ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: سَمِعْتُهُ مِنْهُ مُنْذُ خَمْسِينَ سَنَةً، قَالَ شُعْبَةُ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ أَبِي إِسْحَاقَ، مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً أَوْ أَكْثَرَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ شُعْبَةَ مُنْذُ خَمْسٍ، أَوْ سِتٍّ وَأَرْبَعِينَ سَنَةً، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ، قَالَ: " قُلِ الْعَدْلَ، وَأَعْطِ الْفَضْلَ "، قَالَ: فَإِنْ لَمْ أُطِقْ ذَاكَ؟ قَالَ: " فَأَطْعِمِ الطَّعَامَ، وَأَفْشِ السَّلَامَ "، قَالَ: فَإِنْ لَمْ أُطِقْ ذَاكَ، أَوْ أَسْتَطِعْ ذَاكَ؟ قَالَ: " فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ "؟ قَالَ: نَعَمْ، " فَانْظُرْ بَعِيرًا مِنْ إِبِلِكَ وَسِقَاءً، وَانْظُرْ أَهْلَ بَيْتٍ لَا يَشْرَبُونَ الْمَاءَ إِلَّا غِبًّا فَاسِقِهِمْ، فَإِنَّكَ لَعَلَّكَ أَنْ لَا يَنْفَقَ بَعِيرُكَ وَلَا يَنْخَرِقَ سِقَاؤُكَ حَتَّى تَجِبَ لَكَ الْجَنَّةُ ".ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے شعبہ رحمہ اللہ سے یہ حدیث 45 یا 46 سال پہلے سنی کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: مجھے ایسا عمل بتایئے جو مجھے جنت میں داخل کر دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عدل کرو اور زائد مال دے دیا کرو۔“ اس نے کہا: اگر میں اس کی طاقت نہ رکھوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کھانا کھلایا کر اور سلام کو عام کر۔“ اس نے کہا: اگر میں اس کی طاقت یا استطاعت نہ رکھوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تیرے اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے اونٹوں میں سے ایک اونٹ اور ایک مشکیزہ لے، اور ایسے گھر والوں کو تلاش کر جو ایک دن چھوڑ کر ہی پانی پی پاتے ہیں، انہیں پانی پلایا کر، امید ہے کہ تیرا اونٹ ہلاک نہ ہوگا اور تیرا مشکیزہ نہ پھٹے گا یہاں تک کہ جنت تیرے لیے واجب ہو جائے گی۔“