السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: وجوه العلم بالشهادة باب: گواہی کا علم حاصل ہونے کے مختلف پہلوؤں (طریقوں) کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ح، قَالَ: وَأَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَتَمِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالَا: ثنا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ: إِنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُأْثِرُ هَذَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ: " نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالْوَرِقِ، إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَعَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ، إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، فَأَشَارَ أَبُو سَعِيدٍ بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى عَيْنَيْهِ وَأُذُنَيْهِ، فَقَالَ: أَبْصَرَ عَيْنَايَ، وَسَمِعَتْ أُذُنَايَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ، إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا مِنْهُ غَائِبًا بِنَاجِزٍ، إِلَّا يَدًا بِيَدٍ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ. فَأَخْبَرَ أَنَّ الْعِلْمَ بِالْقَوْلِ يَقَعُ بِمُعَايَنَةِ قَائِلِهِ وَسَمَاعِهِ مِنْهُ، وَفِي هَذَا عَنِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَمْثِلَةٌ كَثِيرَةٌ، قَالَ الشَّافِعِيُّ ⦗٢٦٦⦘ رَحِمَهُ اللهُ: وَبِهَذَا قُلْتُ: " لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ الْأَعْمَى إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَثْبَتَ شَيْئًا مُعَايَنَةً، أَوْ مُعَايَنَةً وَسَمْعًا، ثُمَّ عَمِيَ، فَتَجُوزُ شَهَادَتُهُ "، قَالَ: " وَإِذَا كَانَ الْقَوْلُ أَوِ الْفِعْلُ وَهُوَ أَعْمَى لَمْ يَجُزْ مِنْ قِبَلِ أَنَّ الصَّوْتَ يُشْبِهُ الصَّوْتَ ".نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو لیث کے ایک آدمی نے کہا کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”آپ ﷺ نے منع فرمایا کہ چاندی کی بیع چاندی کے ساتھ کی جائے مگر برابر برابر، اسی طرح سونے کی بیع بھی برابر برابر کی جائے۔“ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اپنی انگلی سے اپنی آنکھوں اور کانوں کی طرف اشارہ کیا کہ میری آنکھوں نے دیکھا اور میرے کانوں نے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”چاندی اور سونے کی بیع برابر برابر کی جائے اور ایک دوسرے پر (قیمت میں) اضافہ نہ کرو، اور غائب کو موجود کے عوض فروخت نہ کرو مگر ہاتھوں ہاتھ۔“
(ب) محمد بن رمح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علم کا حصول بات کے ذریعے کہنے والے کے مشاہدے اور سماع کی بنا پر ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نابینا آدمی کی شہادت صرف اس صورت میں قبول ہے کہ اس نے مشاہدہ کیا ہو یا سنا ہو بینائی ختم ہونے سے پہلے، لیکن جب وہ نابینا ہو جائے اور قول یا فعل نقل کرے درآں حالیکہ وہ اندھا ہو تو اس کی جانب سے یہ خبر مقبول نہیں؛ کیونکہ آوازیں ایک دوسرے کے مشابہ ہوتی ہیں۔