السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من قال: لا تقبل شهادته باب: جس نے کہا کہ: اس (قاذف) کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 20572
حَدَّثَنَاهُ أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيِّ، قَالَ: أَخْرَجَ إِلَيْنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ كِتَابًا فَقَالَ: هَذَا كِتَابُ عُمَرَ إِلَى أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَذَكَرَهُ. فَقَالَ فِيهِ: " وَالْمُسْلِمُونَ عُدُولٌ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، إِلَّا مَجْلُودًا فِي حَدٍّ، أَوْ مُجَرَّبًا فِي شَهَادَةِ زُورٍ، أَوْ ظَنِينًا فِي وَلَاءٍ أَوْ قَرَابَةٍ ". وَهَذَا إِنَّمَا أَرَادَ بِهِ قَبْلَ أَنْ يَتُوبَ، فَقَدْ رُوِّينَا عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِأَبِي بَكْرَةَ رَحِمَهُ اللهُ: " تُبْ تُقْبَلْ شَهَادَتُكَ "، وَهَذَا هُوَ الْمُرَادُ بِمَا عَسَى يَصِحُّ فِيهِ مِنَ الْأَخْبَارِ، كَمَا هُوَ الْمُرَادُ بِسَائِرِ مَنْ رَدَّ شَهَادَتَهُ مَعَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
ادریس اودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعید بن ابی بردہ رحمہ اللہ نے ہمارے سامنے ایک خط نکالا اور کہنے لگے: یہ خط سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے نام ہے۔ اس میں ہے کہ تمام مسلمان ایک دوسرے پر گواہی دیں گے لیکن جس کو حد میں کوڑے لگائے گئے ہوں، جس پر جھوٹی گواہی کا تجربہ ہو یا اس کی نسبت یا قرابت میں تہمت ہو۔ ان سے مراد توبہ سے پہلے ہے۔ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: توبہ کر لیں، آپ کی گواہی قبول کی جائے گی۔