السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : الشهادة في الدين وما في معناه مما يكون مالا، أو يقصد به المال باب: قرض اور اس کے ہم معنی امور میں گواہی کا بیان جو کہ مال ہو یا اس سے مال مقصود ہو۔
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {إِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَاكْتُبُوهُ} [البقرة: 282]، وَقَالَ فِي سِيَاقِهَا: {وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ فَإِنْ لَمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَنْ تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى} [البقرة: 282].اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿إِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَاكْتُبُوهُ﴾ ”جب تم ایک مقررہ مدت تک کے لیے آپس میں قرض کا لین دین کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔“ [سورة البقرة: 282]
اور اسی کے سیاق میں فرمایا: ﴿وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ فَإِنْ لَمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَنْ تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى﴾ ”اور اپنے مردوں میں سے دو گواہ بنا لو، پھر اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں، ان گواہوں میں سے جنہیں تم پسند کرتے ہو، تاکہ اگر ان دونوں (عورتوں) میں سے ایک بھول جائے تو ان میں سے ایک دوسری کو یاد دلا دے۔“ [سورة البقرة: 282]
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، تَصَدَّقْنَ وَأَكْثِرْنَ الِاسْتِغْفَارَ، فَإِنِّي رَأَيْتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ "، قَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: مَا لَنَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، وَمَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَغْلَبَ لِذِي اللُّبِ مِنْكُنَّ "، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ وَالدِّينِ؟ قَالَ: " أَمَّا نُقْصَانُ الْعَقْلِ، فَشَهَادَةُ امْرَأَتَيْنِ تَعْدِلُ شَهَادَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ، فَهَذَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ، وَتَمْكُثُ اللَّيَالِيَ لَا تُصَلِّي، وَتُفْطِرُ فِي رَمَضَانَ، فَهَذَا نُقْصَانُ الدِّينِ ". ⦗٢٥١⦘.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عورتوں کے گروہ! تم صدقہ اور استغفار زیادہ کیا کرو، میں تمہیں اکثر جہنم والیاں دیکھتا ہوں۔“ ان میں سے ایک عورت نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمیں کیا ہے (کہ ہم کثرت سے جہنمی ہیں)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم لعنت اور خاوندوں کی ناشکری زیادہ کرتی ہو۔“ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! عقل و دین کا نقصان کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہوتی ہے، یہ عقل کا نقصان ہے؛ اور رات کا قیام چھوڑنا اور فرضی روزے چھوڑنا، یہ دین کا نقصان ہے۔“