السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: الاختيار في الإشهاد باب: گواہ بنانے میں انتخاب (بہتر گواہ چننے) کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ الْقَاضِي، بِمِصْرَ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمَّا خَلَقَ اللهُ آدَمَ وَنَفَخَ فِيهِ الرُّوحَ عَطَسَ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، فَحَمِدَ اللهَ بِإِذْنِ اللهِ، فَقَالَ لَهُ رَبُّهُ: " رَحِمَكَ رَبُّكَ يَا آدَمُ "، فَقَالَ لَهُ: يَا آدَمُ اذْهَبْ إِلَى أُولَئِكَ الْمَلَائِكَةِ، إِلَى مَلَأٍ ⦗٢٤٨⦘ مِنْهُمْ جُلُوسٍ، فَقُلِ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ "، فَذَهَبَ، قَالُوا: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى رَبِّهِ فَقَالَ: " هَذِهِ تَحِيَّتُكَ، وَتَحِيَّةُ بَنِيكَ وَبَنِيهِمْ "، وَقَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، لَهُ وَيَدَاهُ مَقْبُوضَتَانِ: " اخْتَرْ أَيَّهُمَا شِئْتَ "، فَقَالَ: اخْتَرْتُ يَمِينَ رَبِّي - وَكِلْتَا يَدَيْ رَبِّي يَمِينٌ مُبَارَكَةٌ، ثُمَّ بَسَطَهَا، فَإِذَا فِيهَا آدَمُ وَذُرِّيَّتُهُ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، مَا هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: " هَؤُلَاءِ ذُرِّيَّتُكَ "، فَإِذَا كُلُّ إِنْسَانٍ مَكْتُوبٌ عُمُرُهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَإِذَا فِيهِمْ رَجُلٌ أَضْوَأُهُمْ، أَوْ قَالَ: مِنْ أَضْوَئِهِمْ، لَمْ يُكْتَبْ لَهُ إِلَّا أَرْبَعُونَ سَنَةً، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، زِدْ فِي عُمُرِهِ، قَالَ: " ذَاكَ الَّذِي كُتِبَ لَهُ "، قَالَ: فَإِنِّي قَدْ جَعَلْتُ لَهُ مِنْ عُمُرِي سِتِّينَ سَنَةً، قَالَ: " أَنْتَ وَذَاكَ "، قَالَ: ثُمَّ أُسْكِنَ الْجَنَّةَ مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ أُهْبِطَ مِنْهَا، وَكَانَ آدَمُ يَعُدُّ لِنَفْسِهِ، فَأَتَاهُ مَلَكُ الْمَوْتِ، فَقَالَ لَهُ آدَمُ: قَدْ عَجَّلْتَ، قَدْ كُتِبَتْ لِي أَلْفُ سَنَةٍ، قَالَ: بَلَى، وَلَكِنَّكَ جَعَلْتَ لِابْنِكَ دَاوُدَ مِنْهَا سِتِّينَ سَنَةً، فَجَحَدَ، فَجَحَدَتْ ذُرِّيَّتُهُ، وَنَسِيَ فَنَسِيَتْ ذُرِّيَّتُهُ، فَيَوْمَئِذٍ أُمِرَ بِالْكِتَابِ وَالشُّهُودِ ".حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ نے آدم کو پیدا فرمایا اور اس میں روح پھونکی، تو انہوں نے چھینک ماری اور کہا: «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“، انہوں نے اللہ کی اجازت سے اللہ کی حمد بیان کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «يَرْحَمُكَ رَبُّكَ» ”تیرا رب تجھ پر رحم فرمائے“۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے آدم! فرشتوں کی اس جماعت کے پاس جو مجلس میں بیٹھی ہے جا کر سلام کہو۔ وہ گئے تو انہوں نے کہا: «وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ» ”اور تم پر بھی سلامتی، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں“۔
پھر وہ اپنے رب کے پاس واپس آئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ تمہارا اور ان کا سلام ہے، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا، جبکہ اس کے دونوں ہاتھ بند تھے: جو چاہے اختیار کر۔ انہوں نے عرض کی: میں نے اپنے رب کے دائیں ہاتھ کو پسند کیا اور میرے رب کے دونوں ہاتھ دائیں اور بابرکت ہیں۔ پھر ہاتھ کھولا تو اس میں آدم اور ان کی اولاد تھی۔ انہوں نے عرض کی: اے میرے رب! یہ کیا ہے؟ فرمایا: تیری اولاد۔ ہر انسان کی عمر اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھی ہوئی تھی۔
ان میں سے ایک آدمی پیشانی کے اعتبار سے زیادہ چمکدار تھا اور اس کی عمر کے متعلق صرف چالیس سال لکھا ہوا تھا، انہوں نے عرض کی: اے اللہ! اس کی عمر میں اضافہ فرما۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس کی بس اتنی ہی عمر ہے، انہوں نے عرض کی: میری عمر کے ساٹھ سال اس کو دے دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ آپ کا اور اس کا معاملہ ہے، پھر وہ جنت میں ٹھہرے جتنی دیر اللہ نے چاہا، پھر وہاں سے اترے۔ حضرت آدم اپنی عمر شمار کرتے رہے، جب موت کا فرشتہ آیا تو آدم نے فرمایا: تو نے جلدی کی، میری عمر تو ہزار سال ہے، فرشتے نے کہا: کیوں نہیں؟ لیکن آپ نے اپنے بیٹے داؤد کو ساٹھ سال دے دیے تھے۔ پس انہوں نے انکار کر دیا، ان کی اولاد نے بھی انکار کیا۔ آدم بھول گئے تو ان کی اولاد بھی بھول گئی۔ اس دن سے لکھنے اور گواہ بنانے کا حکم دیا گیا۔“