السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: لا ينبغي للقاضي أن يضيف الخصم إلا وخصمه معه باب: قاضی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی فریق کی میزبانی کرے مگر یہ کہ اس کا مدِمقابل بھی اس کے ساتھ ہو۔
حدیث نمبر: 20470
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَوْذَبٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: نَزَلَ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَجُلٌ وَهُوَ بِالْكُوفَةِ، ثُمَّ قَدِمَ خَصْمًا لَهُ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَخَصْمٌ أَنْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَتَحَوَّلْ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَانَا أَنْ نُضِيفَ الْخَصْمَ إِلَّا وَخَصْمُهُ مَعَهُ " تَابَعَهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ وَغَيْرُهُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بِمَعْنَاهُ هَكَذَا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس کوفہ میں آیا، پھر دوسرا جھگڑا کرنے والا بھی آگیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تو جھگڑا کرنے والا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، فرمایا: جاؤ؛ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ ”ہم کسی جھگڑا کرنے والے کی مہمانی کریں مگر یہ کہ اس کا دوسرا ساتھی بھی موجود ہو۔“