السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: من بدأ بالمكتوب إليه، وكيف يكتب باب: جس شخص نے مکتوب الیہ (جسے خط لکھا جا رہا ہے) کے نام سے ابتدا کی، اور یہ کہ مکتوب کس طرح لکھا جائے۔
حدیث نمبر: 20427
وَأَخْبَرَنَا ابْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ كَتَبَ إِلَى عَامَلٍ فِي رَجُلٍ يَشْفَعُ لَهُ: " {بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} [الفاتحة: ١] إِلَى فُلَانِ ابْنِ فُلَانٍ مِنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ فَقُلْتُ لَهُ: أَتَبْدَأُ بِاسْمِهِ؟ قَالَ: " وَمَا عَلَيَّ أَنْ يَقْضِيَ اللهُ حَاجَةَ أَخِي الْمُسْلِمِ، وَأَبْدَأَ بِاسْمِهِ ".حافظ ثناء اللہ
حمید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بکر بن عبداللہ رحمہ اللہ نے ایک آدمی کی عامل کو سفارش کرتے ہوئے خط لکھا: «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ، إِلٰى فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ، مِنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے، فلاں بن فلاں کی طرف، بکر بن عبداللہ کی جانب سے۔“ میں نے کہا: کیا آپ اس کے نام سے ابتدا کریں گے؟ انہوں نے کہا: مجھے کیا ہے کہ اللہ میرے بھائی کی ضرورت پوری کر دے، میں اس کے نام سے ابتدا کر رہا ہوں۔