السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: الرجل يبدأ بنفسه في الكتاب باب: مکتوب لکھتے وقت آدمی کا اپنا نام لکھ کر اپنی ذات سے ابتدا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 20425
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو سَلَمَةَ الْمِنْقَرِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ يُسَلِّفُ النَّاسَ إِذَا أَتَاهُ بِوَكِيلٍ "، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ فِيهِ، وَيَنْطَلِقُ الَّذِي عَلَيْهِ الْمَالُ يُنَجِّرُ خَشَبَةً حِينَ ⦗٢٢١⦘ حَلَّ الْأَجَلُ فَجَعَلَ الْمَالَ فِي جَوْفِهَا، وَكَتَبَ إِلَيْهِ بِصَحِيفَةٍ: مِنْ فُلَانٍ إِلَى فُلَانٍ، إِنِّي قَدْ دَفَعْتُ مَالَكَ إِلَى وَكِيلِي الَّذِي تَوَكَّلَ لِي، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بنی اسرائیل کا ایک آدمی تھا، وہ لوگوں سے ادھار لیتا تھا، اس کا وکیل آتا۔“ اس نے حدیث کا ذکر کیا، اس میں ہے کہ ”وہ اس کو لے کر چلتا جس میں مال ہوتا، لکڑی کو چھید لیتا، جب وقت پورا ہوجاتا تو مال اس کے اندر کرلیتا اور اس کی طرف ایک خط لکھ دیتا: «مِنْ فُلَانٍ إِلَىٰ فُلَانٍ» ”فلاں کی طرف سے فلاں کی طرف،“ میں نے تیرا مال اپنے وکیل کو دے دیا ہے، وہ میرا مال تیرے سپرد کر دے گا۔“