السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: كتاب القاضي إلى القاضي، والقاضي إلى الأمير، والأمير إلى القاضي باب: ایک قاضی کا دوسرے قاضی کی طرف، قاضی کا امیر کی طرف، اور امیر کا قاضی کی طرف مکتوب (خط) لکھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ، أنبأ أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، أَنَّ عُتْبَةَ بْنَ فَرْقَدٍ، بَعَثَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَعَهَ، وَمَعَ غُلَامٍ لِعُتْبَةَ مِنْ أَذْرَبِيجَانَ بِخَبِيصٍ جَيِّدٍ صَنَعَهُ فِي السَّلَالِيِّ عَلَيْهَا اللُّبُودُ فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَشَفَ عُمَرُ عَنِ الْخَبِيصِ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَيَشْبَعُ الْمُسْلِمُونَ فِي رِحَالِهِمْ مِنْ هَذَا؟ "، فَقَالَ الرَّسُولُ: اللهُمَّ لَا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَا أُرِيدُ "، وَكَتَبَ إِلَى عُتْبَةَ: " أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ كَدِّكَ وَلَا مِنْ كَدِّ أَبِيكَ، وَلَا مِنْ كَدِّ أُمِّكَ، فَأَشْبِعْ مَنْ قِبَلَكَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِي رِحَالِهِمْ مِمَّا تَشْبَعُ مِنْهُ فِي ⦗٢١٨⦘ رَحْلِكَ "، ثُمَّ قَالَ: " ائْتَزِرُوا وَارْتَدُوا وَانْتَعِلُوا وَأَلْقُوا السَّرَاوِيلَاتِ وَالْخِفَافَ وَارْمُوا الْأَغْرَاضَ وَأَلْقُوا الرُّكَبَ وَانْزُوا نَزْوًا وَعَلَيْكُمْ بِالْمَعَدِّيَّةِ وَالْعَرَبِيَّةِ وَذَرُوا التَّنَعُّمَ وَزِيَّ الْعَجَمِ وَإِيَّاكُمْ وَلِبْسَ الْحَرِيرِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَانَا عَنْ لِبْسِ الْحَرِيرِ إِلَّا هَكَذَا، وَوَضَعَ أُصْبُعَهُ السَّبَابَةَ وَالْوُسْطَى " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي خَيْثَمَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مُخْتَصَرًا كَمَا مَضَى.ابوعثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام کے ساتھ عمدہ قسم کی مٹھائی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس روانہ کی، وہ سلالی نامی جگہ پر بنائی گئی تھی اور اس کے سر پر بہترین ٹوپی تھی، جب وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے مٹھائی کو کھولا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا مسلمان اپنے گھروں میں اس سے سیر ہوتے ہیں؟ قاصد نے نفی میں جواب دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں یہ نہیں چاہتا اور سیدنا عتبہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ یہ تیری، تیرے باپ یا تیری ماں کی کمائی نہیں ہے، اس سے سیر ہو جو مسلمان اپنے گھر میں استعمال کر کے سیر ہوتے ہیں۔ پھر فرمایا: ازار بند باندھو، جوتے پہنو، چادر پہنو، شلواریں اور موزے اتار دو، تیر پھینکو، زین کو چھوڑ دو اور کود کر سوار ہو، اور تم عربی زمین کو لازم پکڑو اور نعمتوں اور عجمیوں کی مشابہت کو چھوڑ دو اور ریشم پہننے سے بچو؛ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے: ”صرف دو انگلی، درمیانی اور شہادت والی انگلی کے برابر جائز ہے۔“