السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: من يرجع إليه في السؤال، يجب أن تكون معرفته باطنة متقادمة باب: جس شخص سے (گواہوں کے بارے میں) دریافت کیا جائے اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کی واقفیت اندرونی اور پرانی ہو۔
حدیث نمبر: 20396
اسْتِدْلَالًا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ أَعْلَمُ إِذَا أَحْسَنْتُ، وَإِذَا أَسَأْتُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهَ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا سَمِعْتَ جِيرَانَكَ يَقُولُونَ: قَدْ أَحْسَنْتَ، فَقَدْ أَحْسَنْتَ وَإِذَا سَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ: قَدْ أَسَأْتَ، فَقَدْ أَسَأْتَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں کیسے جان سکتا ہوں کہ میں نے اچھا یا برا کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے ہمسائے کو سن لو، اگر وہ کہے کہ آپ نے اچھا کیا تو اچھا ہے اور جب آپ ان سے سنیں کہ وہ کہتے ہیں: آپ نے برا کیا تو آپ نے برا ہی کیا ہے۔“