حدیث نمبر: 20385
قَالَ اللهُ تَعَالَى: {مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ} [البقرة: 282].
حافظ ثناء اللہ

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ﴾ ”ان گواہوں میں سے جنہیں تم پسند کرتے ہو۔“ [سورة البقرة: 282]

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ ح وَأنبأ أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثَيْنِ، وَقَدْ رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا، وَأَنَا أَنْتَظِرُ الْآخَرَ، حَدَّثَنَا: " أَنَّ الْأَمَانَةَ نَزَلَتْ فِي جَذْرِ قُلُوبِ الرِّجَالِ، فَنَزَلَ الْقُرْآنُ، فَعَلِمُوا مِنَ الْقُرْآنِ، وَعَلِمُوا مِنَ السُّنَّةِ، ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنَ رَفْعِهَا فَقَالَ: " يَنَامُ الرَّجُلُ نَوْمَةً، فَتُقْبَضُ الْأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ، فَيَبْقَى أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْوَكْتِ، ثُمَّ يَنَامُ الرَّجُلُ نَوْمَةً، فَتُقْبَضُ الْأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ، فَيَبْقَى أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْمَجْلِ، كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلَى رِجْلِكَ، فَنَفِطَ فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا، وَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ، فَيُصْبِحُ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ وَلَا يَكَادُ أَحَدٌ يُؤَدِّي، حَتَّى يُقَالَ: إِنَّ فِي بَنِي فُلَانٍ رَجُلًا أَمِينًا، وَحَتَّى يُقَالَ لِرَجُلٍ: مَا أَجْلَدَهُ وَأَظْرَفَهُ وَأَعْقَلَهُ وَلَيْسَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ خَيْرٍ "، ⦗٢٠٩⦘ قَالَ حُذَيْفَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَلَقَدْ أَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ، وَمَا أُبَالِي أَيُّكُمْ بَايَعْتُهُ، لَئِنْ كَانَ مُؤْمِنًا لَيَرُدَّنَّ عَلَيَّ دِينُهُ، وَلَئِنْ كَانَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا لَيَرُدَّنَّ عَلَيَّ سَاعِيهِ، فَأَمَّا الْيَوْمُ، فَمَا كُنْتُ أُبَايِعُ إِلَّا فُلَانًا وَفُلَانًا. لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي صَالِحٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ سُفْيَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے دو احادیث بیان کیں۔ ایک کو تو میں نے دیکھ لیا دوسری کا انتظار ہے۔ آپ ﷺ نے بیان کیا کہ ”امانت آدمیوں کے دلوں میں نازل ہوئی، قرآن نازل ہوا، انہوں نے قرآن کو سیکھا اور سنت کو سیکھا۔“ پھر ان کے اٹھ جانے کے متعلق بیان کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی سوئے گا اور امانت اس کے دل سے نکال لی جائے گی، صرف ایک نشان باقی رہ جاتا ہے، پھر آدمی سو جائے گا تو امانت اس کے دل سے نکال لی جائے گی، صرف ایک جلد کے پھولنے کے مانند نشان رہ جائے گا، جیسے پاؤں کے اوپر کوئلہ گر گیا ہو، اس کی وجہ سے جلد پھول جاتی ہے لیکن اندر کچھ بھی نہیں ہوتا، صبح کے وقت لوگ آپس میں خرید و فروخت کریں گے، کوئی ایک بھی اس کو ادا کرنے والا نہ ہوگا، یہاں تک کہ کہہ دیا جائے گا: فلاں قبیلہ میں ایک امین رہتا ہے، یہاں تک کہ آدمی کے بارے میں کہا جائے گا کہ وہ کتنا ہی باہمت اور عقل مند ہے حالانکہ اس کے دل میں ذرہ برابر بھی بھلائی نہ ہوگی۔“ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے اوپر ایسا زمانہ آیا کہ میں پروا ہی نہ کرتا تھا کہ کس سے خرید و فروخت کروں، اگر وہ مومن ہے تو اس کا دین میری طرف لوٹا دے گا، اگر وہ یہودی یا عیسائی ہے تو وہ قیامت کے دن لوٹا دے گا، لیکن آج تو میں صرف فلاں اور فلاں سے خرید و فروخت کرتا ہوں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20385
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»