السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: اجتهاد الحاكم فيما يسوغ فيه الاجتهاد وهو من أهل الاجتهاد باب: جن معاملات میں اجتہاد کی گنجائش ہو ان میں حاکم کے اجتہاد کا بیان جبکہ وہ اہلِ اجتہاد میں سے ہو۔
حدیث نمبر: 20370
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ الْخُزَاعِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، ثنا عَمِّي جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: نَادَى فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ انْصَرَفَ مِنَ الْأَحْزَابِ: " أَلَا لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الظُّهْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ "، قَالَ فَتَخَوَّفَ نَاسٌ فَوْتَ الْوَقْتِ، فَصَلَّوْا دُونَ بَنِي قُرَيْظَةَ، وَقَالَ آخَرُونَ: لَا نُصَلِّي إِلَّا حَيْثُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ فَاتَنَا الْوَقْتُ، قَالَ: فَمَا عَنَّفَ وَاحِدًا مِنَ الْفَرِيقَيْنِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ.حافظ ثناء اللہ
نافع سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ احزاب سے واپسی پر آواز دی کہ: ”ظہر کی نماز بنو قریظہ میں ادا کرنی ہے۔“ راوی فرماتے ہیں کہ صحابہ نے وقت کے نکل جانے کے ڈر سے اس سے پہلے نماز ادا کر لی، لیکن دوسرے کہنے لگے: ہم وہاں نماز ادا کریں گے جہاں نبی ﷺ نے حکم فرمایا، اگرچہ وقت گزر بھی جائے۔ آپ ﷺ نے دونوں گروہ میں سے کسی پر بھی سرزنش نہیں کی۔