حدیث نمبر: 2037
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ أَبُو الشَّيْخِ الْأَصْبَهَانِيُّ قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُؤَذِّنُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " لَيْسَ أَنَّ أَعْنَاقَهُمْ تَطُولُ وَذَلِكَ إِنَّ النَّاسَ يَعْطَشُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَإِذَا عَطِشَ الْإِنْسَانُ انْطَوَتْ عُنُقُهُ وَالْمُؤَذِّنُونُ لَا يَعْطَشُونَ فَأَعْنَاقُهُمْ قَائِمَةٌ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوبکر بن ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا، وہ نبی ﷺ کے فرمان کا مطلب بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”قیامت کے دن مؤذنوں کی گردنیں لمبی ہوں گی“، یہ مراد نہیں کہ ان کی گردنیں لمبی ہوں گی اور یہ ایسے ہے کہ قیامت کے دن لوگ پیاسے ہوں گے اور جب انسان پیاسا ہوگا اس کی گردن لپٹ جائے گی اور مؤذن پیاسے نہیں ہوں گے اور ان کی گردنیں صحیح ہوں گی۔