حدیث نمبر: 20365
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَدَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ وَكُنَّا لِحُكْمِهِمْ شَاهِدِينَ} {فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ وَكُلًّا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا} [الأنبياء: 79].
حافظ ثناء اللہ

اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَدَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ وَكُنَّا لِحُكْمِهِمْ شَاهِدِينَ﴾ ”اور داود اور سلیمان (علیہما السلام کو یاد کرو) جب وہ دونوں کھیتی کے بارے میں فیصلہ کر رہے تھے جب اس میں لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں، اور ہم ان کے فیصلے کو دیکھ رہے تھے۔“ [سورة الأنبياء: 78] ﴿فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ وَكُلًّا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا﴾ ”تو ہم نے وہ (فیصلہ) سلیمان کو سمجھا دیا، اور ہم نے ہر ایک کو حکمت اور علم عطا کیا تھا۔“ [سورة الأنبياء: 79]

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دَاوُدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُرَّةَ، عنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَدَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنْمُ الْقَوْمِ}، قَالَ: " كَرْمٌ وَقَدْ أَنْبَتَتْ عَنَاقِيدُهُ، فَأَفْسَدَتْهُ "، قَالَ: " فَقَضَى دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِالْغَنَمِ لِصَاحِبِ الْكَرْمِ، فَقَالَ سُلَيْمَانُ: غَيْرَ هَذَا يَا نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، قَالَ: " وَمَا ذَاكَ؟ "، قَالَ: " تَدْفَعُ الْكَرْمَ إِلَى صَاحِبِ الْغَنَمِ، فَيَقُومُ عَلَيْهِ حَتَّى يَعُودَ كَمَا كَانَ، وَتَدْفَعُ الْغَنَمَ إِلَى صَاحِبِ الْكَرْمِ فَيُصِيبُ مِنْهَا، حَتَّى إِذَا كَانَ الْكَرْمُ كَمَا كَانَ، دَفَعْتَ الْكَرْمَ إِلَى صَاحِبِهِ، وَدَفَعْتَ الْغَنَمَ إِلَى صَاحِبِهَا، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ وَكُلًّا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا} [الأنبياء: ٧٩] ". وَرُوِّينَا عَنْ مَسْرُوقٍ، وَمُجَاهِدٍ مَعْنَى هَذَا، وَقَدْ رَدَّ اللهُ تَعَالَى الْحُكْمَ فِي هَذِهِ الْحَادَثةِ وَأَشْبَاهِهَا إِلَى مَا حَكَمَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاقَةِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ حِينَ دَخَلَتْ حَائِطًا لِقَوْمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَفْسَدَتْ، فَقَضَى أَنَّ حِفْظَ الْأَمْوَالِ عَلَى أَهْلِهَا بِالنَّهَارِ، وَعَلَى أَهْلِ الْمَوَاشِي مَا أَفْسَدَتِ الْمَوَاشِي بِاللَّيْلِ، قَالَ ": الشَّافِعِيُّ قَالَ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ لَوْلَا هَذِهِ الْآيَةُ، لَرَأَيْتُ أَنَّ الْحُكَّامَ قَدْ هَلَكُوا، وَلَكِنَّ اللهَ حَمِدَ هَذَا بِصَوَابِهِ، وَأَثْنَى عَلَى هَذَا بِاجْتِهَادِهِ ".
حافظ ثناء اللہ

مرہ، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَدَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ﴾ [سورة الأنبياء: 78] کے متعلق نقل فرماتے ہیں کہ اس سے مراد انگور ہیں۔ انگور اگے اور انہوں نے اس کو خراب کر دیا تو داؤد علیہ السلام نے بکریاں انگور کے باغ والے کو دے دیں۔ سلیمان علیہ السلام نے فرمایا: اے اللہ کے نبی! فیصلہ اس کے علاوہ ہے۔ فرمانے لگے: وہ کیا ہے؟ فرمایا: باغ بکریوں کے مالک کے حوالے کر دو، وہ اس کی نگہبانی کرے، جب ایسا ہو جائے اور بکریاں باغ والے کو دے دو، وہ ان سے فائدہ حاصل کرے۔ بعد میں باغ والے کو باغ مل جائے اور بکریوں والا اپنی بکریاں لے لے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ وَكُلًّا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا﴾ [سورة الأنبياء: 79] ”کہ ہم نے سلیمان کو فیصلہ کی سمجھ عطا فرمائی۔“ اللہ تعالیٰ نے اس جیسے حادثات میں اس جیسے فیصلوں کا حکم فرمایا جب نبی ﷺ نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی اونٹنی کے بارے میں فیصلہ فرمایا، جب رات کے وقت وہ انصار کے ایک باغ میں داخل ہوئی اور باغ کو خراب کر دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دن کے وقت باغ والوں پر حفاظت کرنا ہے اور جانوروں والے رات کے وقت اپنے جانوروں کی حفاظت کریں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حسن بن ابی حسن فرماتے ہیں کہ اگر یہ آیت نہ ہوتی تو حکمران ہلاک ہو جاتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی اس پر تعریف ہے اور اس کوشش پر اس کی تعریف ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20365
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»