السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: من يشاور باب: کن لوگوں سے مشورہ کیا جائے۔
حدیث نمبر: 20333
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: " أَتَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ: " إِنِّي أَثْبَتُ مِنْ عَمِّي وَأَجْرَأُ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَجْعَلَنِي مَكَانَهُ "، قَالَ: " يَا ابْنَ أَخِي، إِنَّ رَأْيَ الشَّيْخِ خَيْرٌ مِنْ مَشْهَدِ الْغُلَامِ ".حافظ ثناء اللہ
علی بن ربیعہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، میں نے کہا: ”میں اپنے چچا سے زیادہ مناسب ہوں، اگر آپ مجھے ان کی جگہ رکھ لیں۔“ فرمایا: ”بھتیجے! شیخ کی رائے نوجوان کی موجودگی سے بہتر ہے۔“