السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: من يشاور باب: کن لوگوں سے مشورہ کیا جائے۔
حدیث نمبر: 20325
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عنِ ابنِ شِهَابٍ، قَالَ: " بَلَغَنَا أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَا تَعْرِضَنَّ فِيمَا لَا يَعْنِيكَ، وَاعْتَزِلْ عَدُوَّكَ، وَاحْتَفِظْ مِنْ خَلِيلِكَ، إِلَّا الْأَمِينَ، فَإِنَّ الْأَمِينَ مِنِ الْقَوْمِ لَا يَعْدِلُهُ شَيْءٌ، وَلَا تَصْحَبِ الْفَاجِرَ يُعَلِّمْكَ مِنْ فُجُورِهِ، وَلَا تُفْشِ إِلَيْهِ سِرَّكَ، وَاسْتَشِرْ فِي دِينِكَ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ ".حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر ملی کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے مقصد چیز بیان نہ کر اور اپنے دشمن سے جدا رہ، اپنے دوست سے بچ کر رہ سوائے امین کے، امین کے برابر کوئی چیز نہیں، فاجر کو دوست نہ بنا وہ اپنا فجور تجھے سکھائے گا اور اپنا راز اس کے سامنے ظاہر نہ کر اور دین کے بارے میں مشورہ ان سے لے جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں۔