السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: من يشاور باب: کن لوگوں سے مشورہ کیا جائے۔
حدیث نمبر: 20317
فَذَكَرَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفُ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ نَبِيٍّ وَلَا وَالٍ إِلَّا وَلَهُ بِطَانَتَانِ: بَطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ، وَتَنْهَاهُ عَنِ الْمُنْكَرِ وَبِطَانَةٌ لَا تَأْلُوهُ خَبَالًا فَمَنْ وُقِيَ شَرَّهُمَا فَقَدْ وُقِيَ وَهِيَ مَعَ الَّتِي تَغْلِبُ عَلَيْهِ مِنْهُمَا ". لَفْظُ حَدِيثِ السُّوسِيِّ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی نبی یا ولی ہو تو اس کے دو مشیر ہوتے ہیں: ایک نیکی کا حکم کرتا ہے اور برائی سے منع کرتا ہے، اور دوسرا بخل میں کمی نہیں کرتا۔ جو اس کے شر سے بچا لیا گیا وہ محفوظ کر لیا گیا اور یہ اس سے ہے جو ان دونوں سے اس پر غالب آتی ہے۔“