السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: : القاضي إذا بان له من أحد الخصمين اللدد نهاه عنه باب: قاضی جب فریقین میں سے کسی ایک کی جانب سے ہٹ دھرمی محسوس کرے تو اسے اس سے سختی سے منع کرے۔
حدیث نمبر: 20298
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، ثنا عَفَّانُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنبأ حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لِأَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " انْظُرْ فِي قَضَاءِ أَبِي مَرْيَمَ "، قَالَ: " إِنِّي لَا أَتَّهِمُ أَبَا مَرْيَمَ "، قَالَ: " وَأَنَا لَا أَتَّهِمُهُ، وَلَكِنْ إِذَا رَأَيْتَ مِنْ خَصْمٍ ظُلْمًا، فَعْاقِبْهُ ".حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ابو مریم کے فیصلے کو دیکھنا۔ وہ کہنے لگے: میں ابو مریم کو متہم نہیں کرتا۔ فرمایا: متہم تو میں بھی نہیں کرتا، لیکن جب آپ جھگڑے میں ظلم دیکھیں تو پھر سزا دیں۔