السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: التثبت في الحكم باب: فیصلے میں تحقیق اور تسلی کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ فِي حَدِيثِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الرَّجُلِ الَّذِي سَافَرَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ، فَلَمْ يَرْجِعْ حِينَ رَجَعُوا، فَاتَّهَمَ أَهْلُهُ أَصْحَابَهُ، فَرَفَعُوهُمْ إِلَى شُرَيْحٍ، فَسَأَلَهُمُ الْبَيِّنَةَ عَلَى قَتْلِهِ، فَارْتَفَعُوا إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَخْبَرُوهُ بِقَوْلِ شُرَيْحٍ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:.ابوعبید نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حدیث، جس میں ہے کہ ایک شخص نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ سفر کیا، اس میں فرمایا: وہ ان کے ساتھ واپس نہ آیا، اس کے گھر والوں نے اس کے ساتھیوں پر قتل کی تہمت لگا دی، تو فیصلہ قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس آیا۔ انہوں نے قتل پر گواہی طلب کی، تو وہ لوگ فیصلہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس لے آئے۔ انہوں نے قاضی شریح رحمہ اللہ کی بات سنائی، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: سعد آئے، سعید نے اونٹوں کو گھاٹ پر چھوڑا، جس سے صرف مشکیزے کے ساتھ پانی پیا جا سکتا تھا، پھر سعد چادر اوڑھ کر سو گئے، اس کی وجہ سے اونٹ سیر نہ ہوئے۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو جدا جدا کر کے پوچھا تو ان کے بیانات مختلف تھے۔ پھر انہوں نے اس کے قتل کا اقرار کر لیا۔
سب سے آسان طریقہ جس کے ذریعے حوض سے جگہ حاصل کی جا سکتی ہے اور قاضی شریح رحمہ اللہ کے لیے مسائل کو ختم کرنا زیادہ آسان ہے، وہ غور و فکر ہے یہاں تک کہ وہ کسی دلیل کے محتاج نہ رہے۔