السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: كراهية طلب الإمارة والقضاء وما يكره من الحرص عليهما والتسرع إليهما، وأنه إذا ابتلي بهما عن غير مسألة كان الأمر أسهل، وإلى النجاة أقرب باب: امارت اور قضاء مانگنے کی کراہت، ان کی حرص کرنے اور ان کی طرف جلد بازی کرنے کی ناپسندیدگی کا بیان، اور یہ کہ اگر اسے مانگے بغیر اس آزمائش میں ڈال دیا جائے تو معاملہ آسان ہوتا ہے اور نجات کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 20255
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَكَمِ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ بَدَا جَفَا، وَمَنِ اتَّبَعَ الصَّيْدَ غَفَلَ، وَمَنْ أَتَى أَبْوَابَ السُّلْطَانِ يُفْتَتَنْ، وَمَا ازْدَادَ عَبْدٌ مِنْ سُلْطَانٍ قُرْبًا، إِلَّا ازْدَادَ مِنَ اللهِ بُعْدًا ". وَرَوَاهُ غَيْرُهُ، عَنِ النَّخَعِيِّ عَنْ عَدِيٍّ عَنْ شَيْخٍ مِنَ الْأَنْصَارِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو دیہات میں ہو وہ سخت ہوتا ہے، جو شکار کا پیچھا کرے وہ غافل ہوتا ہے اور جو بادشاہ کے پاس آتا ہے وہ آزمائش میں پڑ جاتا ہے، جو بندہ بادشاہ کا قرب حاصل کرتا ہے اتنا ہی وہ اللہ سے دور ہوتا ہے۔“