السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: كراهية طلب الإمارة والقضاء وما يكره من الحرص عليهما والتسرع إليهما، وأنه إذا ابتلي بهما عن غير مسألة كان الأمر أسهل، وإلى النجاة أقرب باب: امارت اور قضاء مانگنے کی کراہت، ان کی حرص کرنے اور ان کی طرف جلد بازی کرنے کی ناپسندیدگی کا بیان، اور یہ کہ اگر اسے مانگے بغیر اس آزمائش میں ڈال دیا جائے تو معاملہ آسان ہوتا ہے اور نجات کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 20249
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ إِمْلَاءً، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُلَاعِبٍ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنَ طَلَبَ الْقَضَاءَ وَاسْتَعَانَ عَلَيْهِ وُكِلَ إِلَيْهِ، وَمَنْ لَمْ يَطْلُبْهُ وَلَمْ يَسْتَعِنْ عَلَيْهِ أَنْزَلَ اللهُ إِلَيْهِ مَلَكًا يُسَدِّدُهُ ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ وَكِيعٌ وَغَيْرُهُ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ عَامِرٍ الثَّعْلَبِيِّ عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ عَنْ أَنَسٍ.حافظ ثناء اللہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”جس نے قضاء کا عہدہ طلب کیا اور اس کے لیے مدد چاہی، وہ اس کے سپرد کر دیا جائے گا۔ جس نے نہ طلب کیا اور نہ ہی اس کے لیے مدد چاہی، اللہ اس پر ایک فرشتہ مقرر کر دیتے ہیں جو اس کی مدد کرتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے۔“