السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: التطوع بالأذان باب: ثواب کی نیت سے (رضاکارانہ طور پر) اذان دینے کا بیان
حدیث نمبر: 2018
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ ثنا عَفَّانُ ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنِي الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ اجْعَلْنِي إِمَامَ قَوْمِي قَالَ: " أَنْتَ إِمَامُهُمْ فَاقْتَدِ بِأَضْعَفِهِمْ وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَا يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے اپنی قوم کا امام بنا دیجیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو ان کا امام ہے، ان کے کمزور لوگوں کا خیال کر اور ایسا مؤذن مقرر کر جو اپنی اذان پر مزدوری نہ لیتا ہو۔“