حدیث نمبر: 20155
وَأَخْبَرَنَا ابْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، سَمِعَ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ يَقُولُ: حَدَّثَنِي مَنْ، سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: لَمَّا بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، تَبْعَثُنِي وَأَنَا رَجُلٌ حَدِيثُ السِّنِّ، لَا عَلِمَ لِي بِكَثِيرٍ مِنَ الْقَضَاءِ؟ قَالَ: فَضَرَبَ يَدَهُ فِي صَدْرِي، وَقَالَ: " إِنَّ اللهَ سَيُثَبِّتُ لِسَانَكَ، وَيَهْدِي قَلْبَكَ "، فَمَا أَعْيَانِي قَضَاءٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والا ایک آدمی بیان کرتا ہے کہ جب مجھے رسول اللہ ﷺ نے یمن کی طرف روانہ کیا، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ مجھے روانہ کر رہے ہیں اور میں نوجوان آدمی ہوں، اکثر فیصلوں کے بارے میں مجھے علم نہیں ہے۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: ”اللہ تیری زبان کو ثابت رکھے گا اور تیرے دل کی رہنمائی فرمائے گا۔“ اس کے بعد مجھے دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں کبھی کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النذور / حدیث: 20155
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»