حدیث نمبر: 20153
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ حَنَشِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاضِيًا - يَعْنِي: إِلَى الْيَمَنِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي شَابٌّ، وَتَبْعَثُنِي إِلَى أَقْوَامٍ ذَوِي أَسْنَانٍ قَالَ: فَدَعَا لِي بِدَعَوَاتٍ، ثُمَّ قَالَ: " إِذَا أَتَاكَ الْخَصْمَانِ فَسَمِعْتَ مِنْ أَحَدِهِمَا، فَلَا تَقْضِيَنَّ حَتَّى تَسْمَعَ مِنَ الْآخَرِ، فَإِنَّهُ أَثْبَتُ لَكَ " قَالَ: " فَمَا اخْتَلَفَ عَلَيَّ بَعْدَ ذَلِكَ الْقَضَاءُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مجھے یمن کا قاضی بنا کر روانہ کیا، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نوجوان ہوں اور آپ مجھے بڑی عمر والوں کی طرف روانہ کر رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے مجھے دعائیں دیں اور فرمایا: ”دو جھگڑا کرنے والوں میں سے ایک کی بات سن کر فیصلہ نہ کرنا جب تک دوسرے کی بات نہ سن لی جائے، یہ زیادہ بہتر ہے۔“ فرماتے ہیں: اس کے بعد میرے اوپر کوئی فیصلہ مختلف نہیں ہوا۔