السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النذور— نذروں کا بیان
باب: الهدي فيما ركب، واختلاف الروايات فيه باب: جس قدر راستہ سواری پر طے کیا اس کے بدلے ہدی (قربانی) دینے اور اس میں روایات کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 20117
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً، فَسَأَلَ عُقْبَةُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مُرْهَا أَنْ تَرْكَبَ، فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى غَنِيٌّ عَنْ نَذْرِ أُخْتِكَ "، أَوْ، " مَشْيِ أُخْتِكَ ". شَكَّ سَعِيدٌ.حافظ ثناء اللہ
قتادہ، عکرمہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے پیدل چل کر حج کرنے کی نذر مانی، تو عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو حکم دو کہ وہ سوار ہو جائے، اللہ تیری بہن کی نذر یا اس کے چلنے سے بے پروا ہے۔“ سعید کو شک ہے۔