السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النذور— نذروں کا بیان
باب: الهدي فيما ركب، واختلاف الروايات فيه باب: جس قدر راستہ سواری پر طے کیا اس کے بدلے ہدی (قربانی) دینے اور اس میں روایات کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 20114
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ إِمْلَاءً أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً، وَإِنَّهَا لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ لَغَنِيٌّ عَنْ مَشْيِ أُخْتِكَ، فَلْتَرْكَبْ وَلْتُهْدِ بَدَنَةً ".حافظ ثناء اللہ
عکرمہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے پیدل چل کر حج کرنے کی نذر مانی، وہ اس کی طاقت نہ رکھتی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تیری بہن کے پیدل چل کر جانے سے غنی ہے، وہ سواری کرے اور ایک اونٹ کی قربانی دے۔“