السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النذور— نذروں کا بیان
باب: ما يوفى به من نذر ما يكون مباحا، وإن لم يكن طاعة باب: کسی مباح کام کی نذر پوری کرنے کا بیان، اگرچہ وہ کام طاعت و عبادت نہ ہو۔
حدیث نمبر: 20102
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ، أَبُو قُدَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَضْرِبَ عَلَى رَأْسِكَ بِالدُّفِّ، فَقَالَ: " أَوْفِي بِنَذْرِكَ ". ⦗١٣٣⦘ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَذِنَ لَهَا فِي الضَّرْبِ، لِأَنَّهُ أَمْرٌ مُبَاحٌ، وَفِيهِ إِظْهَارُ الْفَرَحِ بِظُهُورِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرُجُوعِهِ سَالِمًا، لَا أَنَّهُ يَجِبُ بِالنَّذْرِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی: ”میں نے آپ ﷺ کے سامنے دف بجانے کی نذر مانی ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی نذر کو پورا کر۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے اسے دف بجانے کی اجازت صرف اس لیے دی کہ یہ ایک مباح کام ہے اور اس میں رسول اللہ ﷺ کے غلبے اور صحیح سلامت واپسی پر خوشی کا اظہار ہے، نہ اس لیے کہ نذر کی وجہ سے یہ واجب ہو جاتا ہے، واللہ اعلم۔