السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: ما جاء في ولد الزنا باب: ولد الزنا (زنا سے پیدا ہونے والے بچے) کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19997
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ: ذَكَرَ سُفْيَانُ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: " إِنَّمَا سُمِّيَ وَلَدُ الزَّانِيَةِ شَرَّ الثَّلَاثَةِ؛ أَنَّ أُمَّهُ قَالَتْ لَهُ: لَسْتَ لِأَبِيكَ الَّذِي تُدْعَى بِهِ، فَقَتَلَهَا، فَسُمِّيَ شَرَّ الثَّلَاثَةِ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حرامی بچے کے نام رکھنے کی وجہ کہ یہ تیسرا شر ہے کہ اس کی والدہ نے کہا: تو اپنے باپ کا نہیں جس کی طرف تیری نسبت ہے، تو اس نے اپنی والدہ کو قتل کر دیا تو اس کا نام تیسرا شر رکھ دیا گیا۔