السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: ما جاء في ولد الزنا باب: ولد الزنا (زنا سے پیدا ہونے والے بچے) کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19988
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا: ثنا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ، زَادَ: قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَأَنْ أُمَتِّعَ بِسَوْطٍ فِي سَبِيلِ اللهِ، أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ وَلَدَ زِنْيَةٍ ".حافظ ثناء اللہ
سہیل بن ابی صالح رحمہ اللہ نے اس طرح ذکر کیا ہے، لیکن کچھ الفاظ زائد ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے راستے میں ایک کوڑی کے ذریعے نفع اٹھاؤں، یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں حرامی بچے کو آزاد کروں۔