السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: ما يجزئ من الكسوة في الكفارة وهو كل ما وقع عليه اسم كسوة، من عمامة، أو سراويل، أو إزار، أو مقنعة، وغير ذلك باب: کفارے میں کپڑا پہنانے کے حوالے سے کیا چیز کفایت کرتی ہے، اور یہ ہر وہ چیز ہے جس پر کپڑے کا اطلاق ہوتا ہو، خواہ وہ پگڑی ہو، شلوار ہو، تہہ بند ہو، اوڑھنی ہو، یا ان کے علاوہ کچھ اور ہو۔
حدیث نمبر: 19983
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحَنْظَلِيُّ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَجُلًا، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَأَلَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَجُلٍ حَلَفَ أَنَّهُ لَا يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ قَوْمِهِ، فَقَالَ عِمْرَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ " فَقُلْتُ: يَا أَبَا نُجَيْدٍ، إِنَّ صَاحِبَنَا لَيْسَ بِالْمُوسِرِ، فَبِمَ يُكَفِّرُ؟ " قَالَ: " لَوْ أَنَّ قَوْمًا قَامُوا إِلَى أَمِيرٍ مِنَ الْأُمَرَاءِ، وَكَسَا كُلَّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ قَلَنْسُوَةً، لَقَالَ النَّاسُ: قَدْ كَسَاهُمْ ". وَيُذْكَرُ عَنْ سَلْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " نِعْمَ الثَّوْبُ التُّبَّانُ ".حافظ ثناء اللہ
ابن زبیر حنظلی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کسی شخص نے محلے کی مسجد میں نماز نہ پڑھنے کی قسم کھائی تھی۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا: ”اللہ کی نافرمانی میں نذر نہیں، اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔“ میں نے کہا کہ وہ ساتھی کوئی تنگ دست نہیں ہے، پھر وہ کیا کفارہ ادا کرے؟ فرمایا: ”اگر وہ امراء میں سے ہے تو ہر انسان کو ٹوپی بھی پہنائے“ تو لوگوں نے کہا: انہوں نے ان کو ٹوپی بھی پہنائی اور سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا گیا کہ بہترین کپڑے لنگوٹ یا جانگیہ ہیں۔