حدیث نمبر: 19970
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْآدَمِيُّ بِبَغْدَادَ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْوَاسِطِيُّ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ حَدِيثَ الْمُوَاقِعِ، قَالَ فِيهِ: قَالَ: " فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا "، قَالَ: " لَا أَجِدُ "، قَالَ: فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعِرْقٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، قَالَ: " خُذْ هَذَا، فَأَطْعِمْهُ سِتِّينَ مِسْكِينًا "..
حافظ ثناء اللہ

ابن مسیب رحمہ اللہ سے دوسری روایت میں بغیر شک کے پندرہ صاع کا تذکرہ ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے پاس تھے، آپ ﷺ نے اس آدمی کا تذکرہ کیا جو اپنی بیوی پر واقع ہوگیا تھا، اس میں ہے کہ ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ“، اس نے کہا: ”میں نہیں پاتا“، آپ ﷺ کے پاس کھجوروں کا ٹوکرا لایا گیا، جس میں پندرہ صاع تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”لے لو اور ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 19970
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله بواحد»