حدیث نمبر: 19968
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ {فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ} [المائدة: 89] قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " يُجْزِئُ فِي كَفَّارَةِ الْيَمِينِ مُدٌّ بِمُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِعِرْقِ تَمْرٍ، فَدَفَعَهُ إِلَى رَجُلٍ، وَأَمَرَهُ أَنْ يُطْعِمَهُ سِتِّينَ مِسْكِينًا، وَالْعِرْقُ فِيمَا يُقَدَّرُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا وَذَلِكَ سِتُّونَ مُدًّا لِكُلِّ مِسْكِينٍ مُدٌّ ".
حافظ ثناء اللہ

اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ﴾ ”تو اس (قسم) کا کفارہ دس مسکینوں کو درمیانے درجے کا وہ کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو۔“ [سورة المائدة: 89]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”قسم کے کفارے میں نبی کریم ﷺ کے مُد کے حساب سے ایک مُد (فی مسکین) کافی ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کھجوروں کا ایک عَرَق (ٹوکرا) لایا گیا تو آپ ﷺ نے وہ ایک آدمی کو دے دیا اور اسے حکم دیا کہ وہ اسے ساٹھ مسکینوں کو کھلا دے، اور عَرَق کا اندازہ پندرہ صاع لگایا جاتا ہے، اور یہ ساٹھ مُد بنتے ہیں، ہر مسکین کے لیے ایک مُد۔“

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ عِيسَى بْنُ أَبِي عِمْرَانَ الْبَزَّارُ بِالرَّمْلَةِ ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَي الزُّهْرِيُّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " يَا رَسُولَ اللهِ، هَلَكْتُ "، قَالَ: " وَيْحَكَ وَمَا ذَلِكَ؟ "، قَالَ: " وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي يَوْمِ رَمَضَانَ "، قَالَ: " فَأَعْتِقْ رَقَبَةً "، قَالَ: " مَا أَجِدُ "، قَالَ: " فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ "، قَالَ: " مَا أَسْتَطِيعُ "، قَالَ: " فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا "، قَالَ: " مَا أَجِدُ "، قَالَ: فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعِرْقٍ فِيهِ تَمْرٌ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا قَالَ: " خُذْهُ، فَتَصَدَّقْ بِهِ "، قَالَ: " عَلَى أَفْقَرَ مِنْ أَهْلِي؟ فَوَاللهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ أَحْوَجُ مِنْ أَهْلِي "، فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ، ثُمَّ قَالَ: " خُذْهُ، وَاسْتَغْفَرِ اللهَ، وَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ ". قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ رَحِمَهُ اللهُ: هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ قَالَ الشَّيْخُ: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ وَقَدْ مَضَى ذِكْرُهُ فِي كِتَابِ الْحَجِّ، ⦗٩٤⦘ وَرَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ فَجَعَلَ تَقْدِيرَ الْعِرْقِ فِي رِوَايَةِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، وَرُوِيَ مِنْ حَدِيثِ مَنْصُورٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الصِّيَامِ..
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں ہلاک ہوگیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے اوپر افسوس! کیا ہوا؟“ کہنے لگا: رمضان میں میں اپنی بیوی پر واقع ہوگیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”گردن آزاد کر۔“ کہنے لگا: میرے پاس نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مسلسل دو ماہ کے روزے رکھ۔“ کہنے لگا: میں طاقت نہیں رکھتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔“ کہنے لگا: میں نہیں پاتا تو نبی ﷺ کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا، جس میں پندرہ صاع تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لے جاؤ اور صدقہ کرو۔“ کہنے لگا: اپنے گھر والوں سے زیادہ غریب لوگوں پر؟ اور کہنے لگا: میرے گھر والوں سے زیادہ محتاج ان دو پہاڑوں کے درمیان کوئی نہیں تو نبی ﷺ مسکرائے حتیٰ کہ آپ کی داڑھیں مبارک ظاہر ہوگئیں۔ نبی ﷺ فرمانے لگے: ”لے جاؤ، اللہ سے استغفار کرو اور اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 19968
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»