السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: الكفارة قبل الحنث باب: قسم توڑنے سے پہلے کفارہ ادا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 19965
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدٌ الْأَصَمُّ أنبأ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: " وَإِنْ كَفَّرَ قَبْلَ الْحِنْثِ بِإِطْعَامٍ، رَجَوْتُ أَنْ يُجْزِئَ عَنْهُ، وَذَلِكَ أَنَّا نَزْعُمُ أَنَّ لِلَّهِ تَعَالَى حَقًّا عَلَى الْعِبَادِ فِي أَنْفُسِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ، فَالْحَقُّ الَّذِي فِي أَمْوَالِهِمْ إِذَا قَدَّمُوهُ قَبْلَ مَحِلِّهِ أَجْزَأَ، وَأَصْلُ ذَلِكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسَلَّفَ مِنَ الْعَبَّاسِ صَدَقَةَ عَامٍ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ، وَأَنَّ الْمُسْلِمِينَ قَدْ قَدَّمُوا صَدَقَةَ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ يَكُونَ الْفِطْرُ، فَجَعَلْنَا الْحُقُوقَ الَّتِي فِي الْأَمْوَالِ قِيَاسًا عَلَى هَذَا "⦗٩٣⦘ قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ مَضَى الْحَدِيثُ فِي هَذَا فِي كِتَابِ الزَّكَاةِ.حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قسم توڑنے سے پہلے کھانے کے ذریعے کفارہ دے دینا اس کو کفایت کر جائے گا۔ یہ بندوں کے مالوں اور ان کی جانوں میں اللہ کا حق ہے۔ اگر وہ وقت آنے سے پہلے حق ادا کر دیں تو یہ کفایت کر جائے گا۔ اصل اس کی یہ ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے سال گزرنے سے پہلے زکوۃ وصول کی تھی اور مسلمان صدقہ فطر عید الفطر سے پہلے ادا کرتے ہیں، تو تمام حقوق کو اسی پر قیاس کیا گیا ہے۔