السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: الكفارة قبل الحنث باب: قسم توڑنے سے پہلے کفارہ ادا کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ فَرَّقَهُمَا قَالَا: ثنا حَمَّادٌ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ قَالَ: " وَاللهِ لَا أَحْمِلُكُمْ، وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ"، قَالَ: " فَلَبِثْنَا مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِإِبِلٍ، فَأَمَرَ لَنَا بِثَلَاثِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قُلْنَا، أَوْ قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ: " لَا يُبَارِكُ اللهُ لَنَا، أَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا، ثُمَّ حَمَلَنَا"، فَأَتَوْهُ فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: " مَا أَنَا حَمَلْتُكُمْ، وَلَكِنَّ اللهَ حَمَلَكُمْ، إِنِّي وَاللهِ، إِنْ شَاءَ اللهُ، لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا كَفَّرْتُ يَمِينِي، وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ". هَذَا حَدِيثُ خَلَفٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ خَلَفِ بْنِ هِشَامٍ وَيَحْيَى بْنِ حَبِيبٍ وَقُتَيْبَةَ، كُلُّهُمْ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى وَأَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ وَغَيْرُهُمْ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ.سیدنا ابوہریرہ، سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ میں اشعریوں کے ایک گروہ میں نبی ﷺ کے پاس سواریوں کی طلب میں آیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری نہ دوں گا اور نہ ہی میرے پاس ہے۔“ ہم آپ ﷺ کے پاس ٹھہرے رہے جتنی دیر اللہ نے چاہا۔ پھر آپ ﷺ کے پاس اونٹ لائے گئے تو آپ ﷺ نے ہمیں تین سفید کوہان والے اونٹ دے دیے۔ جب ہم چلے تو ہم نے کہا یا ہمارے بعض لوگ کہنے لگے: اللہ ہمیں برکت نہ دے۔ ہم نے نبی ﷺ سے سواریاں طلب کیں، لیکن آپ ﷺ نے قسم اٹھائی کہ نہ دیں گے، پھر آپ ﷺ نے سواریاں مہیا بھی فرما دیں۔ انہوں نے آکر نبی ﷺ کو خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے تمہیں سوار کیا ہے، میں نے سواریاں نہیں دیں۔“ آپ ﷺ فرمانے لگے: ”اگر میں کسی کام پر قسم اٹھاتا ہوں اور دوسرا اس سے بہتر ہو تو اپنی قسم کو توڑ کر بہتر کام کر لیتا ہوں اور قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں۔“
(ب) حماد کو شک ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اپنی قسم کا کفارہ دے کر بہتر کام کر لیتا ہوں“ یا فرمایا: ”میں بہتر کام کر لیتا ہوں اور اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں۔“