حدیث نمبر: 1995
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ قَالَتْ: كَانَ بَيْتِي مِنْ أَطْوَلِ بَيْتٍ حَوْلَ الْمَسْجِدِ فَكَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ عَلَيْهِ الْفَجْرَ فَيَأْتِي بِسَحَرٍ فَيَجْلِسُ عَلَى الْبَيْتِ ثُمَّ يَنْظُرُ إِلَى الْفَجْرِ فَإِذَا رَآهُ تَمَطَّى ثُمَّ قَالَ: " اللهُمَّ إِنِّي أَحْمَدُكَ وَأَسْتَعِينُكَ عَلَى قُرَيْشٍ أَنْ يُقِيمُوا دِينَكَ " قَالَتْ: ثُمَّ يُؤَذِّنُ، قَالَتْ: وَاللهُ مَا عَلِمْتُهُ كَانَ تَرَكَهَا لَيْلَةً وَاحِدَةً هَذِهِ الْكَلِمَاتِ ".
حافظ ثناء اللہ

عروہ بن زبیر رحمہ اللہ بنی نجار کی ایک عورت رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ میرا گھر مسجد کے پاس تھا اور دوسرے گھروں سے اونچا تھا، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اسی پر فجر کی اذان دیتے تھے، وہ سحری کے وقت آتے اور گھر پر بیٹھ کر فجر کی طرف دیکھتے، جب اسے دیکھتے کہ وہ پھیل گئی ہے تو کہتے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَحْمَدُكَ، وَأَسْتَعِينُكَ عَلَى قُرَيْشٍ أَنْ يُقِيمُوا دِينَكَ» ”اے اللہ! میں تیری حمد بیان کرتا ہوں اور قریش پر تیری مدد چاہتا ہوں کہ وہ تیرے دین کو قائم رکھیں۔“ پھر وہ اذان دیتے۔ فرماتی ہیں: اللہ کی قسم! میرے علم کے مطابق انہوں نے ایک رات بھی ان کلمات کو نہیں چھوڑا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1995
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه أبو داؤد 519»