حدیث نمبر: 19938
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ ⦗٨٥⦘ عَطَاءٍ، قَالَ: أَتَيْنَا عَائِشَةَ أَنَا وَعُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ، وَهِيَ بِبِئْرِ مَيْمُونٍ، نَسْمَعُ صَرِيفَ السِّوَاكِ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ، وَهِيَ تَسْتَاكُ، فَأَلْقَتْ إِلَيْنَا وِسَادَةً، قَالَ: فَسَأَلْنَاهَا عَنْ أَشْيَاءَ، وَسَأَلْنَا عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ {لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ} [البقرة: ٢٢٥]، فَقُلْنَا لَهَا: مَا اللَّغْوُ؟ فَقَالَتْ: هُوَ أَحَادِيثُ النَّاسِ، فَعَلْنَا وَاللهِ، صَنَعْنَا وَاللهِ ".حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اور عبید بن عمیر رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، وہ بئرِ میمون پر مسواک کر رہی تھیں اور آواز پردہ کے پیچھے سے آ رہی تھی، انہوں نے ہماری طرف تکیہ ڈالا، کہتے ہیں: ہم نے ان سے چند چیزوں کے متعلق سوال کیا اور ہم نے اس آیت ﴿لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ﴾ [سورة البقرة: 225] کے متعلق بھی سوال کیا کہ اللہ تمہاری لغو قسموں کا مواخذہ نہ فرمائے گا، ہم نے کہا: «لغو» کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: وہ لوگوں کی باتیں ہیں کہ اللہ کی قسم! ہم نے یوں کیا وغیرہ۔