السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: صلة الاستثناء باليمين باب: استثناء کو قسم کے ساتھ ملانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 19926
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " كُلُّ اسْتِثْنَاءٍ مَوْصُولٌ، فَلَا حَنَثَ عَلَى صَاحِبِهِ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ مَوْصُولٍ، فَهُوَ حَانِثٌ ".حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر وہ استثناء جو قسم سے متصل ہو اس کے حانث پر کفارہ نہ ہوگا اور اگر استثناء متصل نہیں تو پھر کفارہ ہوگا۔“