حدیث نمبر: 19908
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ الْوَرَّاقُ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَطَعَنَ النَّاسُ فِي إِمْرَتِهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمْرَتِهِ، فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمْرَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ، وَايْمُ اللهِ، إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ، وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلِيَّ، وَإِنَّ هَذَا مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلِيَّ بَعْدَهُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ

عبداللہ بن دینار نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ نبی ﷺ نے ایک لشکر روانہ کیا تو اسامہ بن زید کو امیر مقرر کر دیا۔ لوگوں نے اس کی امارت پر تنقید کی تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم نے اس کی امارت پر تنقید کی ہے تو تم اس سے پہلے اس کے باپ کی امارت پر ہی تنقید کر چکے ہو۔ اللہ کی قسم! یہ امارت کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ یہ تمام لوگوں سے مجھے زیادہ محبوب ہیں اور یہ اپنے باپ کے بعد مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 19908
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»