السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: ما جاء في اليمين الغموس باب: یمینِ غموس (جھوٹی قسم کھا کر دھوکہ دینے) کے متعلق کیا مروی ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَعْجَلَ الْخَيْرِ ثَوَابًا صِلَةُ الرَّحِمِ، وَإِنَّ أَعْجَلَ الشَّرِّ عُقُوبَةً الْبَغْيُ، وَالْيَمِينُ الصَّبْرُ الْفَاجِرَةُ تَدَعُ الدِّيَارَ بَلَاقِعَ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: مَنْ حَلَفَ عَامِدًا لِلْكَذِبِ، فَقَالَ: وَاللهِ لَقَدْ كَانَ كَذَا وَكَذَا، وَلَمْ يَكُنْ كَفَّرَ، وَقَدْ أَثِمَ وَأَسَاءَ حَيْثُ عَمَدَ الْحَلِفَ بِاللهِ بَاطِلًا، قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَإِنْ قَالَ: وَمَا الْحُجَّةُ فِي أَنْ يُكَفِّرَ، وَقَدْ عَمَدَ الْبَاطِلَ؟ قِيلَ: أَقْرَبُهَا قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ "، فَقَدْ أَمَرَهُ أَنْ يَعْمَدَ الْحِنْثَ.مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سب سے جلد جس بھلائی کا ثواب ملتا ہے وہ صلہ رحمی ہے اور سب سے جلد سزا سرکشی اور بغاوت کی ملتی ہے، اسی طرح جھوٹی قسم۔ گھروں کو نظرِ بد سے محفوظ رکھو۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس نے جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائی اس نے یوں یوں کیا، لیکن کفر نہیں، وہ گناہ گار ہے اور اس نے اللہ کی جھوٹی قسم کھا کر برا کیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر وہ کہے کہ اس پر کفارہ واجب ہونے کی کیا دلیل ہے حالانکہ اس نے باطل چیز کا ارادہ کیا تو اسے کہا جائے گا: سب سے قریبی قول نبی ﷺ کا ہے کہ ”وہ بہتر کام بجالائے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کردے۔“