السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: كراهية الحلف بغير الله عز وجل باب: اللہ عزوجل کے سوا کسی اور کی قسم کھانے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 19830
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ هُوَ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقُمْتُ، وَتَرَكْتُ رَجُلًا عِنْدَهُ مِنْ كِنْدَةَ، فَأَتَيْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ قَالَ: فَجَاءَ الْكِنْدِيُّ فَزِعًا، فَقَالَ: جَاءَ ابْنَ عُمَرَ رَجُلٌ، فَقَالَ: احْلِفْ بِالْكَعْبَةِ، قَالَ: لَا، وَلَكِنِ أَحْلِفُ بِرَبِّ الْكَعْبَةِ، فَإِنَّ عُمَرَ كَانَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَحْلِفْ بِأَبِيكَ، فَإِنَّهُ مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللهِ، فَقَدْ أَشْرَكَ ".حافظ ثناء اللہ
سعد بن عبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، میں کھڑا ہوا اور میں نے ان کے پاس ایک کندی آدمی چھوڑا، میں سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے پاس آیا اور راوی کہتے ہیں کہ کندی آدمی گھبرایا ہوا آیا، اس نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے کہا: ”میں نے کعبہ کی قسم اٹھانی ہے، اٹھا لوں؟“ انہوں نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ربِ کعبہ کی قسم اٹھاؤ، کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ کی قسم اٹھائی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے باپ کی قسم نہ اٹھاؤ، جس نے غیر اللہ کی قسم اٹھائی اس نے شرک کیا۔““