السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السبق والرمي— مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
باب: ما جاء في تسمية البهائم والدواب باب: مویشیوں اور چوپایوں کے نام رکھنے کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19803
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ، فَاسْتَعَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا مِنْ أَبِي طَلْحَةَ، يُقَالُ لَهُ الْمَنْدُوبُ، فَرَكِبَهُ، فَلَمَّا رَجَعَ، قَالَ: " مَا رَأَيْنَا مِنْ شَيْءٍ، وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ شُعْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
قتادہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ مدینہ میں گھبراہٹ ہوئی تو نبی ﷺ نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا گھوڑا عاریتاً لیا، اس کا نام مندوب تھا، اس پر آپ ﷺ سوار ہوئے۔ جب واپس پلٹے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہم نے کچھ نہیں دیکھا اور اس کو ہم نے سمندر پایا ہے۔“