السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السبق والرمي— مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
باب: لا سبق إلا في خف أو حافر أو نصل باب: فرمانِ نبوی ﷺ: ”انعام کا مقابلہ صرف اونٹ، گھوڑے یا تیر اندازی میں جائز ہے“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الضَّبُعِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى نَاسٍ مِنْ أَسْلَمَ يَتَنَاضَلُونَ، قَالَ: " حَسَنٌ لَهَذَا اللهْوُ - مَرَّتَيْنِ - ارْمُوا، فَإِنَّهُ كَانَ لَكُمْ أَبٌ يَرْمِي، ارْمُوا، وَأَنَا مَعَ ابْنِ الْأَدْرَعِ "، قَالَ: فَأَمْسَكَ الْقَوْمُ أَيْدِيَهُمْ، فَقَالَ: " مَالَكُمْ؟ "، فَقَالُوا: لَا وَاللهِ، لَا نَرْمِي، وَأَنْتَ مَعَهُ يَا رَسُولَ اللهِ، إِذًا يُنَضِلُنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ارْمُوا وَأَنَا مَعَكُمْ جَمِيعًا "، قَالَ: فَقَالَ: رَمَوْا عَامَّةَ يَوْمِهِمْ، ثُمَّ تَفَرَّقُوا عَلَى السَّوَاءِ مَا نَضِلَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا ".محمد بن ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اسلم قبیلہ کے لوگوں کے پاس سے گزرے، وہ تیر اندازی کر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اچھا ہے“ (دو مرتبہ کہا) ”تم تیر اندازی کرو کیونکہ تمہارا باپ بھی تیر انداز تھا۔ تم تیر اندازی کرو، میں ابن ادرع کے ساتھ ہوں“ تو لوگوں نے بھی اپنے ہاتھ روک لیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا ہے؟“ انہوں نے کہا: ہم تیر اندازی نہیں کریں گے، جبکہ آپ ﷺ فلاں کے ساتھ ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم تیر اندازی کرو، میں تمہارے سب کے ساتھ ہوں“۔ راوی فرماتے ہیں کہ انہوں نے اس دن عام تیر اندازی کی، پھر وہ بکھر گئے، انہوں نے آپس میں تیر اندازی نہیں کی۔