حدیث نمبر: 1974
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو يَحْيَى أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ عَنِ السُّنَّةِ فِي الْأَذَانِ فَقَالَ: مَا تَقُولُونَ أَنْتُمْ فِي الْأَذَانِ وَعَمَّنْ أَخَذْتُمُ الْأَذَانَ؟ قَالَ الْوَلِيدُ: فَقُلْتُ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَابْنُ جَابِرٍ وَغَيْرُهُمَا أَنَّ بِلَالًا لَمْ يُؤَذِّنْ لِأَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَرَادَ الْجِهَادَ فَأَرَادَ أَبُو بَكْرٍ مَنْعَهُ وَحَبْسَهُ فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ أَعْتَقْتَنِي لِلَّهِ فَلَا تَحْبِسْنِي عَنِ الْجِهَادِ وَإِنْ كُنْتَ أَعْتَقْتَنِي لِنَفْسِكَ أَقَمْتُ، فَخَلَّى سَبِيلُهَ وَكَانَ بِالشَّامِ حَتَّى قَدِمَ عَلَيْهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْجَابِيَةَ فَسَأَلَ الْمُسْلِمُونَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَنْ يَسْأَلَ لَهُمْ بِلَالًا يُؤَذِّنُ لَهُمْ فَسَأَلَهُ فَأَذَّنَ لَهُمْ يَوْمًا أَوْ قَالُوا: صَلَاةً وَاحِدَةً قَالُوا: فَلَمْ يُرَ يَوْمًا كَانَ أَكْثَرَ بَاكِيًا مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ حِينَ سَمِعُوا صَوْتَهُ ذِكْرًا مِنْهُمْ لِرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: فَنَحْنُ نَرَى أَوْ نَقُولُ: إِنَّ أَذَانَ أَهْلِ الشَّامِ عَنْ أَذَانِهِ يَوْمَئِذٍ فَقَالَ مَالِكٌ: لَا أَدْرِي مَا أَذَانُ يَوْمٍ أَوْ صَلَاةُ يَوْمٍ أَذَّنَ سَعْدُ الْقَرَظُ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَافِرُونَ فِيهِ فَلَمْ يُنْكِرْهُ أَحَدٌ مِنْهُمْ فَكَانَ سَعْدٌ وَبَنُوهُ يُؤَذِّنُونَ بِأَذَانِهِ إِلَى الْيَوْمِ وَلَوْ كَانَ وَالٍ يَسْمَعُ مِنِّي لَرَأَيْتُ أَنْ يَجْمَعَ هَذِهِ الْأُمَّةَ عَلَى أَذَانِهِمْ فَقِيلَ لِمَالِكٍ: فَكَيْفَ كَانَ أَذَانُهُمْ؟ قَالَ: يَقُولُ اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، حِيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، ⦗٦١٨⦘ حِيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حِيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حِيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ قَالَ: وَالْإِقَامَةُ مَرَّةً مَرَّةً " قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ: فَأَرَى فُقَهَاءَ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ قَدْ أَجْمَعُوا عَلَى إِفْرَادِ الْإِقَامَةِ وَاخْتَلَفُوا فِي الْأَذَانِ فَاخْتَارَ بَعْضُهُمْ أَذَانَ أَبِي مَحْذُورَةَ مِنْهُمْ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَالشَّافِعِيُّ وَأَصْحَابُهُمَا وَاخْتَارَ جَمَاعَةٌ مِنْهُمْ أَذَانَ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ الشَّيْخُ: مِنْهُمُ الْأَوْزَاعِيُّ كَانَ يَخْتَارُ تَثْنِيَةَ الْأَذَانِ وَإِفْرَادَ الْإِقَامَةِ وَإِلَى إِفْرَادِ الْإِقَامَةِ ذَهَبَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَالْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ وَالزُّهْرِيُّ وَمَكْحُولٌ وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي مَشْيَخَةٍ جِلَّةٍ سِوَاهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.
حافظ ثناء اللہ

ولید بن مسلم کہتے ہیں: میں نے سیدنا مالک بن انس رحمہ اللہ سے اذان میں سنت طریقے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”تم اذان میں کیا کہتے تھے اور تم نے اذان کس سے سیکھی ہے؟“ ولید کہتے ہیں کہ میں نے کہا: مجھ کو سعید بن عبد العزیز اور ابن جابر اور ان کے علاوہ نے خبر دی کہ بلال رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کے لیے اذان نہیں دی اور انہوں نے جہاد کا ارادہ کیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں روکنا چاہا تو انہوں نے کہا: ”اگر آپ نے مجھے اللہ کے لیے آزاد کیا ہے تو آپ مجھے جہاد سے نہ روکیں اور اگر آپ نے اپنی ذات کے لیے آزاد کیا ہے تو میں ٹھہر جاتا ہوں“، انہوں نے ان کا راستہ چھوڑ دیا، وہ شام میں تھے یہاں تک کہ ان کے پاس سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جابیہ سے آئے، مسلمانوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ ان کے لیے بلال رضی اللہ عنہ سے اذان کہنے کا کہیں، انہوں نے کہا تو بلال رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے اس دن اذان دی یا انہوں نے کہا: ایک نماز کے لیے۔ انہوں نے کہا کہ اس دن ان سے زیادہ رونے والا کوئی نہ تھا جس وقت انہوں نے ان کی آواز سنی تو رسول اللہ ﷺ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ہم دیکھتے ہیں یا کہا: ہم کہتے ہیں اہل شام کی اذان اس دن ان کی اذان کے مطابق تھی۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا سعد القرظ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اس مسجد میں صحابہ کرام کی کثیر تعداد کی موجودگی میں ایک دن یا ایک نماز کی اذان نہیں کہی بلکہ تسلسل سے اذان کہتے رہے اور کسی نے بھی انکار نہیں کیا۔ سعد رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے آج تک اذان دیتے ہیں اور اگر کوئی والی ہوتا جو مجھ سے سنتا اور میں دیکھتا کہ وہ اس امت کو ان کی اذان پر جمع کرتا۔ امام مالک رحمہ اللہ سے کہا گیا: ان کی اذان کیسے تھی؟ انہوں نے کہا: وہ کہتے تھے: «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں“، پھر لوٹتے کہتے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز کی طرف آؤ، نماز کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ اور اقامت ایک ایک مرتبہ۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1974
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»