السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما لم يذكر تحريمه، ولا كان في معنى ما ذكر تحريمه مما يؤكل أو يشرب باب: کھانے پینے کی ان اشیاء کا بیان جن کی حرمت کا ذکر نہیں آیا، اور نہ ہی وہ حرام کی گئی اشیاء کے معنی میں آتی ہیں۔
حدیث نمبر: 19725
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ دَاوُدَ هُوَ ابْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِنَّ اللهَ فَرَضَ فَرَائِضَ، فَلَا تُضَيِّعُوهَا، وَحَّدَ حُدُودًا، فَلَا تَعْتَدُوهَا، وَنَهَى عَنْ أَشْيَاءَ، فَلَا تَنْتَهِكُوهَا، وَسَكَتَ عَنْ أَشْيَاءَ رُخْصَةً لَكُمْ، لَيْسَ بِنِسْيَانٍ، فَلَا تَبْحَثُوا عَنْهَا " هَذَا مَوْقُوفٌ..حافظ ثناء اللہ
مکحول رحمہ اللہ، سیدنا ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے فرائض کو فرض کیا، تم ان کو ضائع مت کرو، اور حدیں مقرر کیں، ان سے تجاوز نہ کرو، اور کچھ چیزوں سے منع فرمایا، ان کے احکامات کو نہ توڑو، اور کچھ اشیاء سے خاموشی اختیار کی، وہ رخصت ہیں، بھول نہیں، تم اس کے بارے میں بحث نہ کرو۔“