السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في أكل الطين، قد روي في تحريمه أحاديث لا يصح شيء منها باب: مٹی کھانے کے متعلق کیا مروی ہے، اس کی حرمت کے بارے میں کئی احادیث مروی ہیں مگر ان میں سے کوئی بھی صحیح نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 19721
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُهُ، وَسُئِلَ عَنْ بَيْعِ الْمَدَرِ الَّذِي يَأْكُلُ النَّاسُ، فَقَالَ: " مَا يُعْجِبُنِي ذَلِكَ أَنْ يَبِيعَ مَا يَضُرُّ النَّاسَ فِي دِينِهِمْ وَدُنْيَاهُمْ "، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ} [المائدة: ٤]، قَالَ مَالِكٌ: وَأَرَى لِصَاحِبِ السُّوقِ أَنْ يَمْنَعَهُمْ عَنْ بَيْعِ ذَلِكَ، وَيَنْهَى عَنْهُ "، وَقَالَ مَالِكٌ: " وَهُوَ أَيْضًا مِنْ بَابِ السَّفَهِ ".حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ سے مٹی کی فروخت کے بارے میں سوال کیا گیا اور جو لوگ (اسے) کھاتے ہیں، تو انہوں نے فرمایا: مجھے اچھا نہیں لگتا کہ لوگوں کو جو چیز ان کے دین و دنیا میں نقصان دے اس کو فروخت کیا جائے۔ اللہ فرماتے ہیں: ﴿يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ﴾ [سورة المائدة: 4] ”وہ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ ان کے لیے کیا حلال کیا گیا۔ کہہ دیجیے: پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہیں۔“
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بازار والوں کو اس کی بیع سے منع کر دیا گیا تو وہ رک گئے۔