السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال بتثنية الإقامة وترجيع الأذان باب: اقامت کے کلمات دو دو بار (جفت) کہنے اور اذان میں ترجیع کے قائلین کا بیان
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ السَّائِبٍ مَوْلَاهُمْ، عَنْ أَبِيهِ الشَّيْخِ مَوْلَى أَبِي مَحْذُورَةَ وَعَنْ أُمِّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ أَنَّهُمَا سَمِعَا ذَلِكَ مِنْ أَبِي مَحْذُورَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَ حَدِيثِ حَجَّاجٍ وَقَالَ فِي آخِرِهِ: إِذَا أَقَمْتَ فَقُلْهَا مَرَّتَيْنِ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ أَسَمِعْتَ، وَزَادَ فَكَانَ أَبُو مَحْذُورَةَ لَا يُجُزُّ نَاصِيَتَهُ وَلَا يَفْرِقُهَا لِأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَيْهَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ: التَّرْجِيعُ فِي الْأَذَانِ مَعَ تَثْنِيَةِ الْإِقَامَةِ مِنْ جِنْسِ الِاخْتِلَافِ الْمُبَاحِ فَمُبَاحٌ أَنْ يُؤَذِّنَ الْمُؤَذِّنُ فَيُرَجِّعَ فِي الْأَذَانِ وَيُثَنِّيَ الْإِقَامَةَ وَمُبَاحٌ أَنْ يُثَنِّيَ الْأَذَانَ وَيُفْرِدَ الْإِقَامَةَ إِذْ قَدْ صَحَّ كِلَا الْأَمْرَيْنِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَّا تَثْنِيَةُ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ فَلَمْ يَثْبُتْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَمْرَ بِهِمَا، قَالَ الشَّيْخُ: وَفِي صِحَّةِ التَّثْنِيَةِ فِي كَلِمَاتِ الْإِقَامَةِ سِوَى التَّكْبِيرِ وَكَلِمَتَيِ الْإِقَامَةِ نَظَرٌ فَفِي اخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ مَا يُوهِمُ أَنْ يَكُونَ الْأَمْرُ بِالتَّثْنِيَةِ عَادَ إِلَى كَلِمَتَيِ الْإِقَامَةِ وَفِي دَوَامِ أَبِي مَحْذُورَةَ وَأَوْلَادِهِ عَلَى تَرْجِيعِ الْأَذَانِ وَإِفْرَادِ الْإِقَامَةِ مَا يُوجِبُ ضَعْفَ رِوَايَةِ مَنْ رَوَى تَثْنِيَتَهُمَا أَوْ يَقْتَضِي أَنَّ الْأَمْرَ صَارَ إِلَى مَا بَقِيَ عَلَيْهِ هُوَ وَأَوْلَادُهُ وَسَعْدُ الْقَرَظُ وَأَوْلَادُهُ فِي حَرَمِ اللهِ تَعَالَى وَحَرَمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْ وَقَعَ التَّغَيُّرُ فِي أَيَّامِ الْمِصْرِيِّينَ وَاللهُ أَعْلَمُ.(الف) سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور اس حدیث کے آخر میں ہے کہ ”جب تو اقامت کہے تو دو مرتبہ کہہ: «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» کیا تو نے سن لیا؟“
اور اس نے یہ الفاظ زیادہ بیان کیے: ابو محذورہ رضی اللہ عنہ اپنی پیشانی کے بال نہیں کاٹتے تھے اور نہ ہی مانگ نکالتے تھے اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان پر ہاتھ پھیرا تھا۔
(ب) محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: اذان میں ترجیع، اقامت کے دو مرتبہ کے ساتھ جنسِ اختلاف ہے، مؤذن کا اذان ترجیع سے کہنا اور اقامت دو مرتبہ کہنا مباح ہے۔ اس طرح اذان کے کلمات دو دو بار کہنا اور اقامت مفرد کہنا بھی مباح ہے۔ یہ دونوں طریقے نبی ﷺ سے ثابت ہیں۔ اذان اور اقامت کے کلمات دو دو بار کہنا نبی ﷺ سے ثابت نہیں ہے۔ (جس طرح آج کل مروجہ طریقہ ہے)
(ج) «اللَّهُ أَكْبَرُ» اور «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» کے سوا باقی کلماتِ اقامت دوبارہ کہنا محل نظر ہے۔ روایات میں اختلاف سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ ﷺ کا حکم دو بار کا صرف «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» کے لیے ہے۔ سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد کا اذان میں ترجیع اور اقامت کے مفرد کہنے پر ہمیشگی کرنا ان روایات کے ضعیف ہونے کے وجوب پر دلیل ہے، جس نے انہیں دو دو بار نقل کیا۔ یہ معاملہ اس بات کا متقاضی ہے کہ سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد، سیدنا سعد قرظ رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد جب تک زندہ رہی حرم میں اذان کہتی رہی اور اس کے بعد تغیر مصریوں کے دورِ حکومت میں واقع ہوا۔