السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في أكل الطين، قد روي في تحريمه أحاديث لا يصح شيء منها باب: مٹی کھانے کے متعلق کیا مروی ہے، اس کی حرمت کے بارے میں کئی احادیث مروی ہیں مگر ان میں سے کوئی بھی صحیح نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 19719
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي مَعْشَرٍ، ثنا الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ، ثنا بَقِيَّةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَكَلَ الطِّينَ، فَكَأَنَّمَا أَعَانَ عَلَى قَتْلِ نَفْسِهِ "، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: وَهَذَا لَا أَعْلَمُ يَرْوِيهِ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ غَيْرَ عَبْدِ الْمَلِكِ هَذَا، وَهُوَ مَجْهُولٌ. قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا لَوْ صَحَّ لَمْ يَدُلَّ عَلَى التَّحْرِيمِ، وَإِنَّمَا دَلَّ عَلَى كَرَاهِيَةِ الْإِكْثَارِ مِنْهُ، وَالِإكْثَارُ مِنْهُ وَمِنْ غَيْرِهِ حَتَّى يَضُرَّ بِبَدَنِهِ مَمْنُوعٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے مٹی کھائی اس نے اپنے قتل پر خود ہی مدد کی۔“
ابو احمد (ابن عدی) فرماتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ اسے سہیل بن ابی صالح سے اس عبدالملک کے سوا کسی نے روایت کیا ہو اور وہ مجہول ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: اگر یہ صحیح بھی ہو تو حرمت پر دلالت نہیں کرتی، بلکہ جس چیز کی کثرت بدن کو نقصان دے اس میں کراہت ہے۔