السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال بتثنية الإقامة وترجيع الأذان باب: اقامت کے کلمات دو دو بار (جفت) کہنے اور اذان میں ترجیع کے قائلین کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ النَّرْسِيُّ، أنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ أُمِّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، قَالَ: لَمَّا رَجَعَ ⦗٦١٥⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ خَرَجْتُ عَاشِرَ عَشَرَةٍ مِنْ مَكَّةَ أَطْلُبُهُمْ فَسَمِعْتُهُمْ يُؤَذِّنُونَ لِلصَّلَاةِ فَقُمْنَا نُؤَذِّنُ نَسْتَهْزِئُ بِهِمْ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَقَدْ سَمِعْتُ فِي هَؤُلَاءِ تَأْذِينَ إِنْسَانٍ حَسَنِ الصَّوْتِ " فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا فَأَذَّنَّا رَجُلًا رَجُلًا فَكُنْتُ آخَرَهُمْ فَقَالَ حِينَ أَذَّنْتُ: " تَعَالَ " فَأَجْلَسَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ فَمَسَحَ عَلَى نَاصِيَتِي وَبَارَكَ عَلَيَّ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ: اذْهَبْ فَأَذِّنْ عِنْدَ الْبَيْتِ الْحَرَامِ قُلْتُ: كَيْفَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَعَلَّمَنِي الْأَذَانَ كَمَا يُؤَذِّنُونَ الْآنَ بِهَا: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ ألَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَلَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، حِيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حِيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حِيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حِيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ فِي الْأُولَى مِنَ الصُّبْحِ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ قَالَ: وَقَدْ عَلَّمَنِي الْإِقَامَةَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، حِيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حِيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حِيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حِيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ " قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي هَذَا عُثْمَانُ كُلَّهُ عَنْ أُمِّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ أَنَّهَا سَمِعَتْ ذَلِكَ مِنْ أَبِي مَحْذُورَةَ كَذَا رَوَاهُ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ حنین سے واپس لوٹے تو میں دسواں مکہ سے نکلا تاکہ میں آپ کو تلاش کروں۔ میں نے لوگوں کو سنا وہ نماز کے لیے اذان کہتے تھے، ہم کھڑے ہوتے اور ہم بھی اذان دیتے تھے اور ان کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔ نبی ﷺ کھڑے ہوئے اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے ان لوگوں میں اچھی آواز والے انسان کی اذان سنی۔“ آپ ﷺ نے ہماری طرف کسی کو بھیجا تو ایک ایک نے اذان دی، میں ان میں سے آخری تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جب میں نے اذان دی تو آپ ﷺ نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا، میری پیشانی پر ہاتھ پھیرا اور تین مرتبہ میرے لیے برکت کی دعا کی، پھر فرمایا: ”جا تو بیت اللہ کے پاس اذان دے۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیسے۔؟ آپ ﷺ نے مجھ کو اذان سکھائی جس طرح اب مؤذن اذان دیتے ہیں: «اَللّٰہُ أَکْبَرُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ، حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ، اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ، اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز کی طرف آؤ، نماز کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، نماز نیند سے بہتر ہے، نماز نیند سے بہتر ہے“، صبح کی پہلی اذان میں «اَللّٰہُ أَکْبَرُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ اس نے کہا اور مجھ کو دو دو مرتبہ اقامت سکھائی: «اَللّٰہُ أَکْبَرُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ، حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلٰوۃُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلٰوۃُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز کی طرف آؤ، نماز کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، یقیناً نماز کھڑی ہو گئی، یقیناً نماز کھڑی ہو گئی، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“۔