حدیث نمبر: 19674
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَهْطًا مِنْ عُرَيْنَةَ أَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّا قَدِ اجْتَوَيْنَا الْمَدِينَةَ، وَعَظُمَتْ بُطُونُنَا، وَارْتَهَسَتْ أَعْضَادُنَا، " فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْحَقُوا بِرَاعِي الْإِبِلِ، فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا "، فَلَحِقُوا بِرَاعِي الْإِبِلِ، فَشَرِبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا، وَأَلْبَانِهَا، حَتَّى صَلُحَتْ بُطُونُهُمْ وَأَبْدَانُهُمْ، ثُمَّ قَتَلُوا الرَّاعِيَ، وَسَاقُوا الْإِبِلَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ فِي طَلَبِهِمْ، فَجِيءَ بِهِمْ، فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ، قَالَ قَتَادَةُ: ⦗٧⦘ فَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ أَنَّ: " ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الْحُدُودُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ هُدْبَةَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ هَمَّامٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عرینہ قبیلہ کے لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے کہنے لگے ہمیں مدینہ کی آب و ہوا راس نہیں (یعنی موافق نہیں آئی) ہمارے پیٹ بڑھ گئے ہیں اور ہمارے بازو زخمی ہو گئے ہیں، آپ ﷺ نے حکم فرمایا کہ: ”وہ اونٹوں کے چرواہوں کے پاس جا کر اونٹوں کا دودھ اور پیشاب استعمال کریں۔“ تو انہوں نے چرواہوں کے پاس جا کر اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیا تو ان کے بدن اور پیٹ درست ہو گئے۔ پھر انہوں نے چرواہوں کو قتل کر دیا اور اونٹ لے گئے۔
یہ خبر نبی کریم ﷺ کو ملی تو آپ ﷺ نے ان کو پکڑنے کے لیے آدمی روانہ کیے جو ان کو لے کر آئے تو آپ ﷺ نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دیں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ محمد بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ حدود کے نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19674
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»