السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: من أباح الاستصباح به باب: اس شخص کا بیان جس نے اسے (ناپاک تیل یا گھی کو) چراغ جلانے میں استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔
حدیث نمبر: 19627
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي فَأْرَةٍ وَقَعَتْ فِي زَيْتٍ، قَالَ: " اسْتَصْبِحُوا بِهِ، وَادْهُنُوا بِهِ أَدَمَكُمْ ".حافظ ثناء اللہ
نافع حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں: ایسی چوہیا جو تیل میں گر جائے، اس تیل سے چراغ جلاؤ اور اپنے مشکیزوں کو تیل لگا لو۔